بھٹکل 21 فروری (ایس او نیوز) اسمبلی انتخابات کے لئے کچھ ہی ماہ رہ گئے ہیں، لیکن بھٹکل اور ضلع اُترکنڑا کے دیگر اسمبلی حلقوں کے ساتھ ساتھ پوری ریاست میں عوام میں بی جے پی مخالف لہر چل پڑی ہے، لوگ اس بات سے ناراض ہیں کہ بی جے پی صرف ہندو۔مسلم کرتے ہوئے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد عوام کے مسائل دور کرنے کے بجائے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے میں لگی ہے۔
ایسے میں آج منگل کو سوشیل میڈیا پر ایک فوٹو تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا ہے جس میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری سی ٹی روی، مقامی بی جے پی ایم ایل اے سُنیل نائک اور دیگر بی جے پی لیڈران کے ساتھ کھانا نوش فرمارہے ہیں اور اُن کی پلیٹ پر چکن کا تکڑا نظر آرہا ہے۔
وائرل فوٹو کے ساتھ کنڑا میں ایک مسیج بھی گردش کررہا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ بھٹکل کے ایک مسلم ہوٹل سے پروٹا اور گوشت پکاکر لایا گیا اور بی جے پی لیڈر سی ٹی روی کو کھلاکر اُسے ناگ دیوی (مندر) لے جایا گیا اس موقع پر مُنڈلی راجیش نائک ، منکی کے بی جے پی لیڈر سبرایا نائک بھی سی ٹی روی اور سنیل نائک کے ساتھ موجود تھے۔
مسیج میں لکھا گیاا ہے کہ چکن کھاکر ناگ بنا میں داخل ہونے کی وجہ سے ناگ دیوی نے سنیل نائک سے بدلہ لیا ہے جس کی وجہ سے آج منکی میں لوگوں نے سنیل نائک کی مخالفت میں احتجاج کیا۔
پتہ چلا ہے کہ مسلم ہوٹل سے پروٹا اور چکن آرڈر کیا گیا تھا اور ایم ایل اے سنیل نائک کے گھر پر بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی کو کھانا پیش کیا گیا تھا۔ فوٹو میں سنیل نائک کے ساتھ بھٹکل بی جے پی منڈل کے سابق صدر راجیش نائک، منکی بلاک بی جے پی کے سابق صدر سبرایا نائک اور سنیل نائک کے بھائی سدھارتھ نائک بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
بتاتے چلیں کہ کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیڈر سدرامیا کے تعلق سے بی جے پی اس سے قبل کئی بار الزامات لگاچکے ہیں کہ سدرامیا گوشت کھاکر اور مچھلی وغیرہ کھاکر مندر جاتے ہیں۔ گذشتہ انتخابات کے موقع پر جب سدرامیا نے کورگ کا دورہ کیا تھا تو وہاں انہوں نے ترکاری کھاکر مندر کا دورہ کیا تھا، مگر میڈیا والوں نے جب اُنہیں پوچھا کہ آپ مچھلی کھاکر مندر جاتے ہیں تو سدرامیا نے اُُلٹا سوال پوچھا تھا کہ میں کچھ بھی کھاکرمندر جائوں ، آپ مجھے روکنے والے کون ہوتے ہیں۔ ان کے جواب کو لے کر ریاست بھر میں واویلا مچایا گیا تھا، مینگلور میں جب سدرامیا نے مچھلی کھاکر مندر کا دورہ کیا تو اُس وقت بھی میڈیا نے اس معاملے کو کانگریس کے خلاف بڑا ایشو بناکر پیش کیا تھا، حالانکہ دھرمستھلا کے دھرم ادھیکاری نے وضاحت بھی کی تھی کہ گوشت یا مچھلی کھاکر مندر جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے، کوئی کچھ بھی کھاکر مندر میں درشن کرسکتے ہیں، لیکن بی جے پی والوں نے میڈیا کے تعاون سے سدرامیا کے کھانے کو لے کر اسے ہندو مخالف کے طور پر پیش کیا تھا۔
مگر اب یہی معاملہ بی جے پی کے ساتھ پیش آیا ہے اور بھٹکل میں بی جے پی لیڈران چکن کھاکر مندر جانے کی بات ریاست بھر میں چرچا کا سبب بن گیا ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ کھانے کے دوران لی گئی فوٹو بی جے پی والوں نے ہی نکال کر وائرل کی ہوگی ، کیونکہ سنیل نائک کی رہائش گاہ پر کوئی دوسرا جاکر فوٹو کھینچنا ممکن نہیں ہے۔